تیرے محسن کی آمد آمد ہے
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreیہ سجنا سنورنا، یوں بالوں میں گُلاب کا مہکنا
لگتا ھے تیرے محبوب کی آمد آمد ھے
یہ چُوڑیوں کی کھنک یہ پائل کی چھنک، یوں چہرے کا دمکنا
لگتا ہے دیدار یار کے لمحات کی آمد آمد ہے
یہ لبوں پہ تبسم یہ شوخ سالہجہ، یوں دل کا دھڑکنا
لگتا ہے زندگی میں تتلی کے رنگوں کی آمد آمد ہے
یہ زرق برق لباس یہ ہلچل یہ رونق، یوں پہروں اُسے سوچنا
لگتا ہے عید پہ تیرے محسن کی آمد آمد ہے
یہ چہرے پہ حیا یہ جُھکی سی آنکھیں، یوں بوکھلانا شرمانا
لگتا ہے تیرے من کے ساگر کی آمد آمد ہے
(دل کی گہرائیوں سے سب کو عیدالاضحٰی مبارک)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







