جب سے تمناؤں نے سینے میں پلنا چھوڑ دیا ہے
Poet: Mubeen Nisar By: Mubeen Nisar, Islamabadجب سے تمناؤں نے سینے میں پلنا چھوڑ دیا ہے
تم نے بھی ستارو چمکنا چھوڑ دیا ہے
یوں سونی پڑی ہے کہکشاں ساری
جیسے کسی نے آنا چھوڑ دیا ہے
حجاب ہوتا تو ستم نہ ہوتا اتنا
ظلم ہےکہ اس نے شہر میں آنا چھوڑ دیاہے
دورحد نگاە تک کوئی رنگ ہی نہیں ہے
پھولوں نے بھی جیسے سنورنا چھوڑ دیا ہے
اس خوشبو نے کیا ہے اسطرح بیخود
اب ہم نے ہوش میں آنا چھوڑ دیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






