جس محبت کی تھی تمنا بس وہ سرابوں میں ملی
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadجس محبت کی تھی تمنا بس وہ سرابوں میں ملی
کچھ حقیقت میں ملی بھی تو صرف وعدوں میں ملی
جس جنوں کی چاہت تھی محبت میں وہ جنون نہ ملا
پل بھر کو ملی تسکین بھی تو خوابوں میں ملی
بہت چاہا تھا کہ میں بھول جاؤں اسکو بھول جاؤں
جو تصویر مجھے خوابوں میں ملی خیالوں میں ملی
جذبہ جھوٹا ہےاسکا پر میں کیسے بھول جاؤں اسے
وہ جو لذت مجھے زخموں میں ملی شرابوں میں ملی
بہت تلاش کی ساجد الفت کی حقیقت میں نے
ان جذبوں کی صدا قت تو صرف کتابوں میں ملی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






