خواب سا وہ گمان ہوتا ہے
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین , karachi خواب سا وہ گمان ہوتا ہے
جب بھی تو درمیان ہو تا ہے
موسم گل وہ لگتے ہیں ہر پل
دل میں جب تیرا دھیان ہو تا ہے
برق گرتی ہے جب وہ دل توڑ ے
جس دل پہ بہت مان ہو تا ہے
وہ چمن اجڑ جاتے ہیں جن کا
بے خبر با غبان ہو تا ہے
منزلیں وھی پاتے ہیں جن میں
جزبوں کا اک جہان ہوتا ہے
ہر کڑی دھو پ میں دعا کا اثر
صورت سائبان ہوتا ہے
میں مسافر ہوں سچ کا وہ جس کی
ہر راہ میں زندان ہوتا ہے
غم نہ پو چھ اس کے بچھڑنے کا
جو کسی دل کی جان ہوتا ہے
ہر نگاہ پیار میں سدا معین
رقم دل کا بیان ہو تا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






