درد میں درد بڑھے درد تو کچھ اور ہو
Poet: کوثرجبیں By: kousar jabeen, Toba Tek Singh درد میں درد بڑھے درد تو کچھ اور ہو
خوب جمے عشق والوں کی محفل آہ و فغاں تو کچھ اور ہو
بے خودی سے چھا جائے جاں لبوں پر بلبلائے
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے جگر سرور تو کچھ اور ہو
عالم تنہائی میں پچھلی رات کا ہو پہر
دشت کی ہو ویرانگی خوف تو کچھ اور ہو
مئے خانے کی دہلیز پر کٹ مرتے ہیں دیوانے
قفل ابھی بند رہے ہجوم تو کچھ اور ہو
آتش عشق میں جل کر راکھ ہو گۓ کتنے ہی عاشق
آؤ ذرا تم بھی اے جبیں شور تو کچھ اور ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







