دل بنا کے ساحل پر لکھا جو تیرا نام
Poet: M.Taha Ahmed By: M. Taha Ahmed, Rawalpindi دل بنا کے ساحل پر لکھا جو تیرا نام
لہروں نے سکھایا مجھے محبت کا انجام
خمارِ بادہ ،نگاہِ نرگس ،نوائے بلبل کسی نے بولا
دل میں اس وقت کچھ نہ آیا یاد بس ترا خرام
طوفانوں سے گر جاتے ہیں شجرِ تن آور بھی
تو سمجھا تیری محبت کو مل سکے گا یہاں دوام
ٹکڑے اپنے چن رہا تھا کہ ایکدم یوں بکھر گئے
اِدھر اُدھر جب نظر پڑی تو نازل ہو چکی تھی شام
میں تشنہ گزر جو بیٹھا سرِ بازار تجھ سے ہو کر
رسوا ہوا میں ساقی پی کے تیری آنکھوں کا جام
سو عیب گنوا دیے میری زرا سی تلخ کلامی پہ
طٰہٰ ورنہ کبھی ہوتا تھا شیریں سخن تیرا کلام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






