دل میں رنگِ بہار کیسا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادل میں رنگِ بہار کیسا ہے
عاشقی کا خمار کیسا ہے
رات دن جب کہ رو رہا ہے عدو
اُس کے دل پہ غبار کیسا ہے
جس میں کھو کر میں کھو گئی ہوں کہیں
تیری آنکھوں میں پیار کیسا ہے
دھڑکنوں سے ہے گر شناسائی
پھر یہ دل بیقرار کیسا ہے
میری آنکھوں کو پڑھ رہے ہیں سبھی
یہ ترا اشتہار کیسا ہے
کر رہا تھا جو تُو وفاؤں کا
وہ ترا کاروبار کیسا ہے
تیری آنکھوں نے تیر و خنجر سے
جو کیا تھا شکار کیسا ہے
سب کے دکھ بھی چھپا لئے ہیں جہاں
تیرے دل کا دیار کیسا ہے
پہلے کھو دی تھی زندگی وشمہ
اب نگاہوں کا وار کیسا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






