دل نشیں وہ سفر نہیں میرا
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین, karachi دل نشیں وہ سفر نہیں میرا
تو اگر ہم سفر نہیں میرا
چل سکو ساتھ میرے تو چلنا
کہیں چھاؤں سفر نہیں میرا
منزل شوق کا وہ جنو ں ہے
اک راہ پر بسر نہیں میرا
کیوں تنے ہوئے ہیں ابرو ترے
دشمن جاں اگر نہیں میرا
بے وفاؤں کے ہوئے چرچے بہت
کسی لب پر ذکر نہیں میرا
ہم پیام بر محبتوں کے ہیں
نفرتوں کا نگر نہیں میرا
شہر جاناں میں جانا کیا اب دل
کوئی واں منتظر نہیں میرا
اس راہ پر معین رواں ہوں جہاں
کوئی سایا شجر نہیں میرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






