دل کی دنیا کا جو دستور نہیں ہے کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادل کی دنیا کا جو دستور نہیں ہے کوئی
جادہءِ عشق میں مجبور نہیں ہے کوئی
جتنے بھی ظلم کما لیں یہ زمانے والے
روزِ محشر سے تو اب دور نہیں ہے کوئی
کتنا مغرور ہے دیکھو نا زمیں زاد یہاں
جس کے چہرے پہ ابھی نور نہیں ہے کوئی
کب سے ہے شہرِ فسوں کار میں الجھن ہر سو
اپنے حالات سے مسحور نہیں ہے کوئی
کچھ پسِ ذوقِ تمنا بھی ہے چرچا ہر سو
ایسے ہی شہر میں مشہور نہیں ہے کوئی
غم کی کشتی کو کنارے سے لگایا پھر بھی
میری محنت پہ تو مشکور نہیں ہے کوئی
اُس کو بھی حُسنِ محبت کی طلب ہے وشمہ
میرے جیسی بھی یہاں حور نہیں ہے کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








