دیکھے تھے تیرے اور ہی کچھ خواب آج کل
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلادیکھے تھے تیرے اور ہی کچھ خواب آج کل
آنکھوں میں تونے بھر دیا سیلاب آج کل
رہتی ہیں دن کے ماتھے پہ سورج کی شوخیاں
اور رات کو ستائے ہے مہتاب آج کل
مجھ کو غموں کی بھیڑ نے رست میں لے لیا
کھلتا نہیں ہے زندگی کا باب آج کل
پہلے ہی عاشقی کے کنارے سے دور ہوں
ہونے کو ناو ہے مری غرقاب آج کل
پہلے تو اس نے پیار سے دیکھا کبھی نہ تھا
کیوں میری طرح ہورہا بیتاب آج کل
یہ رات ہے تو یاد کی پرچھائیاں بھی ہیں
آنکھوں میں تیرے پیار کا ہے خواب آج کل
رکھا ہے مجھ کو وشمہ جی ایسے نصیب نے
جیسے ہو کوئی مایئ ء بے آب آج کل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






