رنگ پھولوں سے چرا لیتی ہوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیارنگ پھولوں سے چرا لیتی ہوں میں
خواب پلکوں پہ سجا لیتی ہوں میں
چن کے تیرے پیار کی خوشبو کبھی
اپنے دامن میں سجا لیتی ہوں میں
بیٹھتی ہوں جب بھی طاقِ ہجر میں
دیپ یادوں کے جلا لیتی ہوں میں
مٹ رہا ہو جب کبھی دیوار سے
تیرا چہرہ پھر بنا لیتی ہوں میں
تیری دلکش پیار کی یہ روشنی
اپنے اندر خود سما لیتی ہوں میں
وشمہ اپنی مسکراہٹ بانٹ کر
تیری الفت کی دعا لیتی ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






