رکھتی تھی جس کے ڈر سے میں خود کو سنبھال کے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیارکھتی تھی جس کے ڈر سے میں خود کو سنبھال کے
وہ چل دیا ہے پھر مجھے مشکل میں ڈال کے
آنکھوں میں تیری یاد کا دریا نہیں رہا
موتی ہیں میری آنکھ میں حزن و ملال کے
دل کی اداؤں سے ابھی واقف نہیں ہے وہ
قصے سنا رہا ہے جو حسن و جمال کے
کیسے حصارِ ذات سے باہر وہ آئے گا
مجھ کو وہ بزمِ یار سے باہر نکال کے
ھر شہر شہر پیار کے دربار بن گئے
چرچے ہوئے جو چار سو میری دھمال کے
جب چاہا عشق ذات کو بھی زیر کر لیا
وشمہ ہماری آنکھ میں فن ہیں کمال کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






