سدا اجلے خیالوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکسدا اجلے خیالوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
محبت کے گلابوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
نصابِ زندگانی میں بہت ہیں تلخیاں لیکن
وفا کی ان کتابوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
بہت ہی دلنشیں ہے یہ ثقافت میری دھرتی کی
یہاں رکتی بہاروں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
تمہارے نام سے میری ہر اک شب جگمگاتی ہے
کہ سورج ،چاند ،تاروں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
کبھی دیکھا تمہیں میں نے گلوں کی ڈال پر کِھلتے
کبھی خوشبو کے خوابوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
تمہاری ذات اے وشمہ وفا کا اک جزیرہ ہے
سمندر کے کناروں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






