شام بچھڑ جاتے ہیں لوگ
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonشام تیرے سنگ یوں رنگ بدلتے ہیں لوگ
چہرے پے اک نیا چہرہ سجا لیتے ہیں لوگ
غمِ زندگی کو بھلانے کے لیۓ اک نئ محفل سجا لیتےہیں لوگ
سانولی سلونی گھٹا کی طرح زلفِ پریشاں سنوار لیتے ہیں لوگ
گھر کی دیواریں تنگ ہوں تو میخانے کا رُخ کر لیتےہیں لوگ
پری چہرہ محفل جاں ہو تو گستاخ نگاہ جما لیتے ہیں لوگ
نگاہوں کے تصادم سے دل کے بھید جان لیتے ہیں لوگ
آنکھوں میں چھپا درد جان کر بھی انجان ہی رہتے ہیں لوگ
باتوں باتوں میں عہد تو کیۓ بہت اے دوست ہم نے
بھول گۓ تو کیا یہاں تو روز ہی بدل جاتے ہیں لوگ
پنکھ لگے پنچھیوں کے اُونچی اُونچی اُ ڑان اڑتے ہیں روز
منایئں کس کس کا سُوگ صُبح ملتے شام بچھڑ جاتے ہیں لوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






