شام جی بھر کے جب رلاتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشام جی بھر کے جب رلاتی ہے
تری صورت ہی یاد آتی ہے
میں بھی سنتی ہوں زندگی کی مگر
زیست تیرے ہی گیت گاتی ہے
مسکاں دیکھوں جو تیرے ہونٹوں پر
میرے چہرے پہ لوٹ آتی ہے
میرے مالک یہ ماجرہ کیا ہے
کیوں یہ دنیا مجھے جلاتی ہے
اس کو پوچھے خدا کرے کوئی
میرے شعروں کو جو چراتی ہے
ایسا جادو وہ کر گیا مجھ پر
یاد آنکھوں میں جگمگاتی ہے
چاند اترا ہے گیت سننے کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






