صدائے دل
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین, karachi حرف دل کی صدا ہو گئے سب
تم ملو یہ دعا ہو گئے سب
یاد تم آ گئے جس گھڑی بھی
دل کے ہر غم جدا ہو گئے سب
بن تر ے میری بزم زیست کے
بے رنگ سے سما ہو گئے سب
اک ھمی نہیں د یوانے تیرے
تجھ پہ عابد بھی فدا گئے سب
کیا ملی تم سے نظریں ہما ری
اپنے غیر کیا . خفا ہو گئے سب
دوست بھی ہو گئے جب عدو کے
تیر بھی مر ے خطا ہو گئے سب
ہم چلے جو معین راہ حق پر
اند ھیرے بھی ضیا ہو گئے سب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






