لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا ہوگا
Poet: purki By: M.Hassan, karachiاگر ہم ملک و قوم سے مخلص ہیں
تو لوٹ مار کے کلچر کو دفن کرنا ہوگا
اگر ہم ملک میں تبدیلے چاہتے ہیں
تو جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کو ترک کرنا ہوگا
اگر ہم ملک میں امن و امان چاہتے ہیں
تو مجرم کو شکنجے میں کسنا ہوگا
اگر ہم بے روزگاری ختم کرنا چاہتے ہیں
تو لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا ہوگا
اگر ہم ملک سے کرپشن کی فنا چاہتے ہیں
تو حکمرانوں کواپنی عیّاشی ختم کرنا ہوگا
اگر ملک میں اصلی جمہوریت کا راج چاہتے ہیں
تو ووٹر کو یرغمالیوں سے آزاد کرنا ہوگا
اگر ہم اس ملک میں جنّت کا نظام چاہتے ہیں
تو بے داغ اور باضمیر قیادت کو لانا ہوگا
اگر ہم حقیقی معنوں میں ملک کی آزادی چاہتے ہیں
تو ہمیں رنگ و نسل اور فرقہ واریت سے نکلنا ہوگا
اگر ہماری تمنّا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں ہوں سچّا مسلمان
تو آپس میں اتّحاد و اخوّت اور محبّت کا چرچا کرنا ہوگا
اگر چاہتے ہیں کہ بن جاؤں پکّا مومن
تو ہمیں اپنے نفس کو پاک و پاکیزہ کرنا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ کہلائے ایک باعزّت قوم
تو ہر ایک کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کرنا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ نہ ہو
تو ہمیں ہردفتراور گھر میں فالتو بلب کو بُجانا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دوزخ کے عذاب بچیں
تو ہمیں دکھاوے اور ریاکاری سے باز آنا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں درست ہوں
تو مدرسوں اور اسکولوں کا قبلہ درست کرنا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں تعلیمی تچارت کا بازار نہ ہو
تو ہمیں اُستادوں کےمالی مسائل کو فوراَ حل کرنا پڑے گا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک امن و آشتی کا گہوارہ ہو
تو ہمیں اپنے ملک میں عدل و انصاف قائم کرنا پڑے گا
جب کافر اپنے ممالک کو جنّت کا نمونہ بنا سکتے ہیں
تو مسلم حکمرانوں کو بھی اس نکتہ پہ سوچنا پڑے گا
اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ سے لوگ چڑچڑانے لگے
ہمیں پہلی فرصت میں انرجی کرائسس کو حل کرنا پڑے گا
قیامت کی گرمی میں دن کا چین اور نہ رات کا آرام
نئی حکومت کو ان مسائل کا مستقل حل ڈھونڈنا پڑے گا
لوگ اکتا گئے ہیں روز روز کے گونا گوں پریشانیوں سے
ہمیں دل وجان سے عوام کے حقیقی مسائل کو ایڈریس کرنا پڑے گا
ہر طرف اندھیروں کا راج اور بے روزگاری کا عالم
ہم یونہی کب تلک ایٹمی قوّت کا جشن مناتا رہے گا
میرے پیارے ملک میں قیامت سے پہلے قیامت کا سماں ہے
جمہوری بادشاہوں کو جمہوری تماشا اب بند کرنا پڑے گا
قوم نے آخری دفعہ یہ پانچ سال نوازا ہے نواز کو
پھر جمہوری بساط ہمیشہ کے لئے لپیٹنا پڑے گا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






