لپٹا ہوا چہرہ ہے اندھیرے کی ردا میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیالپٹا ہوا چہرہ ہے اندھیرے کی ردا میں
اور درد ہے اس دل کے دھڑکنے کی صدا میں
پھر کرب کی اس دل میں وبا پھیل رہی ہے
پھر آگ سی بھڑکی ہے یہ سانسوں کی ہوا میں
حیرت ہے کوئی آنکھ سے آنسو نہیں نکلا
ویسے تو کڑا وقت بھی کاٹا ہے دعا میں
روتی ہوں تری یاد کے دامن سے لپٹ کر
جب اونگھنے لگتی ہوں میں خوابوں کی فضا میں
یادوں کے تعاقب میں گزاری ہیں یہ صدیاں
کیا لطف ملا مجھ کو تری کرب و بلا میں
اس بام پہ کیا پیار کی میں شمع جلاؤں
نام اس نے اگر لکھا مرا عہد جفا میں
وہ پیار کا پنچھی ہے پلٹ آئے گا وشمہ
اک تیر محبت کا جو پھینکوں گی ہوا میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






