مجھے کبھی بھی تو دل سے بھلا نہیں سکتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامجھے کبھی بھی تو دل سے بھلا نہیں سکتے
غموں سے دور بہت دور جا نہیں سکتے
تو دور بھی ہے مری تجھ کو آرزو بھی نہیں
میں جانتی ہوں تجھے میں دکھا نہیں سکتے
کبھی بھی دے گا نہ حق مجھ کو پیار کرنے کا
مگر ہے حق تو مجھے یہ بتا نہیں سکتے
لگن ہے ایسی مجھے جس پہ اختیار نہیں
تو میرا پیار ہے لیکن سنا نہیں سکتے
مرے خیالوں میں خوابوں میں تو ہی رہتا ہے
مرے خیالوں میں وہ مسکرا نہیں سکتے
کھنکتی رہتی ہیں ہر لمحہ چوڑیاں میری
میں دیکھتی ہوں تصور میں آ نہیں سکتے
تمہاری داستاں الجھی ہوئی تھی وہموں میں
دعائیں دو ہمیں وشمہ جی پا نہیں سکتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






