"محبت کے دھندلکے"
Poet: Saba Hassan By: saba Hassan, Lahoreمجھے ایذاء سی دیتے ھیں
بارھا تکلیفوں میں
زندگی کی پو پھوٹتی رمق سی دیتے ھیں
میں روتی ھوں۔۔۔۔ نہیں روتی
چہک کر قہقہےلگاتی ھوں
میں ھنستی ھوں
نیہں ھنستی۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بھگو جاتی ھوں
کوئی عالم بھی طاری ھو
ذرا بھی مستقل نہیں ھوتا
ھزاروں وسوسے دل میں
سینکڑوں وضاحتیں خود کو
کبھی ھجراں بھی نعمت ھے
کبھی یادوں کے تکیے پہ
گئے موسم کی لڑیاں ھیں
کبھی وصل سے الجھن
کبھی گرہ سانسوں کی روحوں تک
محبت کے دھندلکے مجھے رکنے نہیں دیتے
کوئی پل ھو۔۔۔۔ کوئی ساعت ھو
میں جامد ھی نیہں ھوتی
میرے وجود۔۔۔۔ میرے احساس۔۔۔۔۔ میرے خیالوں کو
تجھ سے ھٹنے نہیں دیتے ھیں
کسی معصوم بچےکے کھلونے سا
تجھ سے چمٹائے رکھتے ھیں
محبت کے دھندلکے
محبت کے سبھی موسم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






