میرا عید کا چاند
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaعید کے چا ند بتا ، تجھکو پتہ ہو شاید
آ تے جا تے کہیں ر ستے میں ملا ہو شاید
کس کے آ نگن میں چمکتا ہے میرا عید کا چاند
کو ن سے شہر میں رہتا ہے میر ا عید کا چاند
تجھکو فرصت ہو تو اِ ک پلَ کے لئے بات کروں
چا ند سے چا ند کے بارے میں سو ا لات کروں
کیا کبھی تو نے یہ دیکھا ہے کہ بس میری طرح
مچلے مچلے ہو ئے جذ با ت کو عر یاں کر کے
کھو ئے کھو ئے سے خیا لات کو حیر ا ں کر کے
شب کے شا نے پہ کبھی زُلف پر یشاں کر کے
کبھی پلکو ں کے منڈ یر ے پہ چرا غا ں کر کے
کیا میر ا ر ا ستہ تکتا ہے میرا عید کا چاند
آ ہ بھر تا ہے ، تڑ پتا ہے میرا عید کا چاند
یا د کر کر کے مچلتا ہے میرا عید کا چاند
بات جھو ٹی ہی سہی ، پھر بھی یہی کہہ مجھ سے
بات کرنے کو ترستا ہے میرا عید کا چاند
سنُ کے رُو داَد میر ی ، چاند نے بس ا تنا کہا
خوش ہے ، مصروف ہے ، اچھا ہے ترا عید کا چاند
تیر ے ا شعار پہ ہنستا ہے تر ا عید کا چاند
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






