میری روح میں سماء جاء
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaبدلی میں پھر سے چاند چھپنے لگا ہے
میرے مہتاب اپنے مخ سے نقاب ُاٹھا جاء
اے میرے پاس چپکے سے
اور میری روح میں سماء جاء
میرے خستہ الفاظوں کو ُتو
چاہیت کی اک دلکش غزل بنا جاء
تیری دید کی حسرت میں بہت پیاسی ہیں آنکھیں
اک پل کے لیے ہی سہی تو ان کی پیاس بھجا جاء
کیا کہہ رہی ہیں شبنم پھولوں سے چپکے چپکے
ُتو صدا رہ میرے ساتھ اور میری بے بسی کو مٹا جاء
تجھ سے ہی تو وابستہ ہیں میری خوشیاں
چھوڑ دے اناوں کو اور میرے ہاتھوں میں اپنے پیار کی مہندی لگا جاءج
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






