میں ہوں اسی ٹھہرے ہوئے اک پل کی کہانی
Poet: N A D E E M M U R A D ندیم مراد By: ندیم مراد NADEEM MURAD, UMTATA RSAلکھوں جو میں بھیگے ہوئے آنچل کی کہانی
ہاتھوں کو سیہ کردے نہ کاجل کی کہانی
دل دشت ہےوہ جس میں نہیں خواہشِ باراں
اک قصہء پارینہ ہے جل تھل کی کہانی
کہتے ہیں محبت ہو جواں جس سے گزر کر
میں ہوں اسی ٹھہرے ہوئے اک پل کی کہانی
ہو جاؤ گے زخمی سو نہ پوچھو کوئی خواہش
پُر خار ہے آشاؤں کے جنگل کی کہانی
پھولوں پہ بھی گلیوں میں بھی اور مجھ پہ بھی برسے
کچھ درد تو رکھتی ہے یہ بادل کی کہانی
اس آج کے سورج نے دیے درد ہیں کچھ کم
دُھراؤں جو میں گزرے ہوئے کل کی کہانی
ہر بادہء الفت کا شرابی ہے غم آلود
میں خود بھی ہوں اک کرب ِمسلسل کی کہانی
اپنے دل ِنازک کی کہانی کو سنا کر
کہتا ہوں کہ یہ ہے کسی پاگل کی کہانی
میں شاعرِ فطرت ہوں مجھے کوئی نہ روکے
آئے گا جو اک روز میں اس کل کی کہانی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






