نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
Poet: " مظہر اقبال گوندلؔ " By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiضو فگن ہے در پہ آقاؐ کے دلوں پر جو قبض
راستہ وہی ہے جس پر ہے نبیؐ کی خوشہ قبض
ضبط میں ہے اشک، مگر لب پہ درودوں کی عرض
کیا ہے ہم نے دل کی گہرائی سے نعتوں کی عرض
ضو کی خیرات ملی، جب درِ سرکارؐ پہ آئے
پھر نہ لوٹی خالی جھولی، ہو گئی ساری قرض
ضد تھی قسمت کی، نہ منزل، نہ سکونِ دل ملا
جب تلک در سے نبیؐ کے ہو نہ پایا ہم کو بعض
ضعف میں بھی ہے طلب اُنؐ کی رضا پانے کی غرض
یہی حسرت ہے کہ لکھ جائے درودوں کی غرض
ضمیر کہتا ہے مظہرؔ، اُنؐ سے جو نسبت ملی
بن گیا راحت، شفا، ہر درد و دُکھ کا وہ مرض
ضو کے صدقے ہو عطا مظہرؔ پہ بخشش کا عوض
آخرت میں بس وہی نعمت ہو جنت کا عوض
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






