نہ جانے کس موڑ پہ کھڑی ہو گی
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubai نہ جانے کس موڑ پہ کھڑی ہو گی
وہ اک لڑکی جسے چھوڑ آیا میں
بہت دل تھا میرا رکنے کو وہاں مگر کیا کرتا
مجبوری تھی ہی ایسی کہ لوٹ آیا میں
میں جانتا ہوں بہت پیار ہے ہم میں لیکن
کسی اچھے کل کے لئے یہ سب بھول آیا میں
نہیں بھول پاتا ساتھ گزرے اسکے سارے دن رات
خواب آنکھوں میں لئے نیندیں وہاں چھوڑ آیا میں
اپنی تنہائی میں ہی کھویا رہتا میں ہر پل کام کے بعد
کسی کا ساتھ تو اسی کے ساتھ کھو آیا میں
اس کی یاد اور انتظار کسی اور کا ہونے نہیں دیتی
کہ اپنا دل اور پیار اسی کے پاس بھول آیا میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






