وشمہ تمہارا عشق یہ شعر و سخن تو ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاقسمت میں لکھ دیا ہے جو دل کی صدا کے ہیں
میرے وہ قول و فعل سے کچھ آشنا کے ہیں
نظروں کے آئینے میں کوئی دلربا بھی ہو
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا کے ہیں
ان آندھیوں نے شور مچایا تو ہے بہت
بہتر ہے ان کے غول میں تازہ ہوا کے ہیں
ان غم زدوں کے واسطے دنیا نئی بسے
اس کرب و ہجر و درد کی اب انتہا کے ہیں
وہ لے گیا یقین کی حد تک مجھے مگر
اس عشق کے مقام پہ وہ چاہتا کے ہیں
بچھڑے ہوئے یوں پیار کی صدیاں گزر گئیں
دل کی گلی میں واپسی کا راستہ کے ہیں
سرد و گرم نظام میں رہ کر میں کیا کروں
منظر کوئی تو گھر میں مرے دلکشا کے ہیں
وشمہ تمہارا عشق یہ شعر و سخن تو ہے
اس شاعری میں زندگی کا در کھلا کے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






