وقت رخصت وہ ہاں میں ہاں ملا کر گیا
Poet: Sajid Bin Zubair By: Sajid Bin Zubair, Bahawalnagarوقت رخصت وہ ہاں میں ہاں ملا کر گیا
جانے والا دل کی باتیں وہ مجھ کو بتا کر گیا
میرا ہو گا وہ اک دن یہی مجھ سے وعدہ کئیے
امیدوں کے دئیے وہ مجھ میں جلا کر گیا
بڑی دشوار ہیں راہیں محبت کے جزیروں میں
زوال محبت کی ہر نشانی وہ مجھ کو بتا کر گیا
مقام انتہا پر بے بسی کے عالم میں
اشکوں کے موتی وہ میرے دامن میں گرا کر گیا
وہ چاہتا تو سینے سے لگا سکتا تھا مجھ کو
ہائے کہ وہ شخص آداب محبت مجھ کو سکھا کر گیا
الفتوں کے آشیانوں سے کبھی راحتیں نہیں ملتی
شمع پہ جلتے کئی پروانے وہ مجھ کو دکھا کر گیا
عشق کے سمندر میں کسی کو تہرنا نہیں آیا
ابھرتی لہروں میں کتنے بھنور وہ مجھ کو دکھا کر گیا
بھٹک نہ جائے ساجد کہیں پر کیف نظاروں میں
اپنے آنچل کی ٹھنڈی ہوا میں وہ مجھ کو سلا کر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






