وہ بھولی داستاں دھرانے لگے ہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamوہ ہم سے مراسم بڑھانے لگے ہیں
ہم پھر پیار میں چوٹ کھانےلگےہیں
ہم جس بات کو بھلائے بیٹھے تھے
وہ بھولی داستاں دھرانے لگے ہیں
پہلے ہی قدم پہ جب چوٹ کھائی
پیار کر کے ہم پچھتانے لگے ہیں
نادانی میں جنہیں اپنا سمجھ بیٹھا
آج انہی کو ہم بیگانے لگے ہیں
تنہائی ناگن بن کر ڈسنےلگی ہے
جدائی کےناگ آگ برسانےلگے ہیں
ساری دنیا کہ دکھ درد ہمیں دے کر
وہ یوں رسم الفت نبھانےلگےہیں
ان کہ جھوٹےوعدوں پہ اعتبارکرکے
آج تک نہ اصغر کسی ٹھکانےلگےہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






