وہ جو دبکے ہیں آستینوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا زندگی سے جو پیار تھے ہم تو
عشق بھی ایک بار تھے ہم تو
ان سے لاکھوں فریب کھا ئے ہیں
پھر بھی ہم اعتبار تھے ہم تو
صحبت گل تمھیں مبارک ہو
ہم تو کانٹوں سے پیار تھے ہم تو
ہم نے پایا ہے ظرف پروانہ
جلنے والوں سے پیار تھے ہم تو
ہے پتہ تم کبھی نہ آؤ گے
پھر بھی ہم انتظار تھے ہم تو
وہ جو دبکے ہیں آستینوں میں
موقع ملتے ہی وار تھے ہم تو
ہم بھی رکھتے ہیں جیب میں تسبیح
رات دن ذکر یار تھے ہم تو
ان سے فرصت ملی تو ہم بھی و
اور کچھ کارو بار تھے ہم تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






