وہ زیست کے صفحوں کو بکھرنے نہیں دیتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاوہ زیست کے صفحوں کو بکھرنے نہیں دیتا
یہ کیسا مسیحا ہے کہ مرنے نہیں دیتا
کچھ زخم اداؤں سے وہ کاندھے پہ لگا کر
اک درد محبت کو اترنے نہیں دیتا
پھیلی ہے خدو خال پہ ہجرت کی سیاہی
یہ کرب وفا چہرہ سنورنے نہیں دیتا
جب چاند کے آنے کی امیدیں بھی ہیں روشن
کیوں بام پہ تارہ بھی چمکنے نہیں دیتا
اس قید مسافت سے مرے دل کا مسافر
میں دیکھوں کہ کیسے وہ گزرنے نہیں دیتا
اک آس لگائے ابھی بیٹھی ہوں میں وشمہ
یہ شہر بھی بے آس پلٹنے نہیں دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






