(ویلنٹائن ڈے پر تمہارے لیے)
Poet: Maria Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadسنو مری روح کے سکون
مرا دل مری دھڑکن مرا چین سب کچھ
لے لیا ہے تم نے
مری رگ رگ میں تیرا
پیار رواں ہے
میں پوری طرح تیری
ہو گئی ہوں
مانتی ہوں تو مرا لاحاصل ہے
لیکن سنو ! لاحاصل کا نشہ تمام زندگی رہتا ہے
یہ نشہ ختم نہیں ہوتا
یہ عشق کم نہیں ہوتا
سنو مری لاحاصل چاہت
سنو مری لاحاصل محبت
مرے دن رات، میری گھڑیاں
میری سانسیں میری باتیں تجھ بن
سب ناممکن نا ممکن نا ممکن
تو اس طرح چھا گیا ہے مجھ پر
جس طرح دن رات پر
اور رات دن پر چھا جاتی ہے
یہ جو تیری محبت ہے ناں
یہ رب کا تحفہ ہے
تیری محبت کا مری زیست کا حصہ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







