"پگلی "
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryوه لڑکی تیری چاہ میں موم بن کر پگھل گئی
یوں توحید سے وه آشنا ہوئی تھی
نہ تجھ سے پہلے کوئی تها
نہ تیرے بعد کوئی ہے
اب موسم خزاں اس کے گھر میں ٹهر سا گیا ہے
اس کی روح کے برف زار میں
اک سناٹا رک سا گیا ہے
اس کی آنکھوں میں اک وہی دهندلا سا منظر ساکت ہے
وہ تیرا ہاتھ جهٹک کر پلٹ جانا
اب وہ بلاوجہ کبھی ہنستی ہے
کبھی رو دیتی ہے
لوگ اس کو دیکھ کر اکثر یہ کہتے ہیں بے چاری پگلی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






