چلو پھر ہم سبھی مل کر
Poet: zee By: Muhammad Zubair, Multanچلو سوچیں
چلو ہم مل کے سب سوچیں
بھلا وہ کون سی شے ہے؟
جوانسان کو کسی انسان کے پہلومیں بٹھا تی ہے
انہیں نزدیک لا تی ہے، انہیں اپنا بنا تی ہے
دلوں کو نرم کرتی ہے، وہا ں کلیا ںکھلا تی ہے
یہ با رش ہے، محبت کی
تعلق کی ، رفاقت کی
توجہ کی، عنا یت کی
جو ذہنو ںپر برستی ہے، جو صحن دل میں ہوتی ہے
محبت منتشر لو گو ں کو ما لا میں پروتی ہے
یہی وہ آب زم زم ہے جس کی خیر و برکت سے
ہما رے دل صفا ہو تے ہیں نفر ت سے ، کد ورت سے
چلو پھر ہم سبھی مل کر
خدا کی اس زمین پر یہ محبت عام کر جا ئیں
کہ مرنا تو مقدر ہے ، مگر مرنے سے پہلے کو ئی ، ڈھنگ کا کام کر جا ئیں
سعا دت اس بھلا ئی کی ، ہم اپنے نا م کر جا ئیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






