" کردار کی خوشبو "
Poet: " مظہرؔ اقبال گوندل " By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiتو عطر سے مہکے یہ تیرا شوق ہے لیکن ,
میری حسرت ہے تیرے کردار سے خوشبو آئے ۔
بدن پہ ریشمی کپڑے، زباں پر ذکرِ وحدت ,
خدا کرے کبھی گفتار سے خوشبو آئے ۔
محبّت جس میں سچ ہو، دل میں دردِ خلق رکھے ,
مجھے وہ شخص گفتار سے خوشبو آئے ۔
نمازیں، روزے، حج سب خوب ہیں، لیکن ,
نفس کی راہ میں تکرار سے خوشبو آئے ۔
ادب میں، ظرف میں، لہجے میں کچھ نرمی ہو لازم ,
کہ دل کی خاک پر اقرار سے خوشبو آئے ۔
نہ ہو تسبیح، سجدہ، اور نہ ہو واعظ کا خطبہ ,
اگر ہو پیار، تو کردار سے خوشبو آئے ۔
مظہر کا یہ عقیدہ ہے خوشبو صرف عطر نہیں ,
کبھی انسان کی رفتار سے خوشبو آئے ۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






