کوئی پیغام تو شعروں میں سنائی دے گا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارککوئی پیغام تو شعروں میں سنائی دے گا
مجھے لگتا ہے وہ پھر آج دکھائی دے گا
ایسے کِھلتے ہیں بھلا پھول کسی اور نگر
پیڑ گلشن میں جو ہر وقت دہائی دے گا
میں تو مخلص ہوں مرا کام دعائیں دینا
وہ تو دشمن ہے تجھے روز بُرائی دے گا
آج دربار میں آئے ہو تو سچ کہہ ڈالو
میرے اس فعل کی پھر کون صفائی دے گا
جھڑ گئے اب تو مری زیست کے بال اور پر
مرے صیّاد مجھے کب تو رہائی دے گا
تو جو مل جائے تو جنّت کی بشارت وشمہ
ورنہ برزخ سا مرے گھر میں دکھائی دے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






