گاؤں سارا یہ اجنبی کے بغیر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاگاؤں سارا یہ اجنبی کے بغیر
کتنا تنہا ہے آدمی کے بغیر
اس کی یادیں تو رہ نہیں سکتیں
دل کے دفتر میں حاضری کے بغیر
اس نے مرنا تھا ایک دن لیکن
رہ بھی سکتا تھا خود کشی کے بغیر
زندگی ، زندگی نہیں رہتی
سب ہی کہتے ہیں دوستی کے بغیر
کتنا سونا ہے پیار کا گلشن
تیرے جلوے کی سر کشی کے بغیر
میرا دیوان نامکمل ہے
تیری ہستی پہ شاعری کے بغیر
کیسا دھڑکن کا ساز ہے وشمہ
دل بھی دھڑکے نہ عاشقی کے بغیر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






