ہاں!وہ میں ہی تھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia ہاں!وہ میں ہی تھی
جو ہاتھوں پے
تیرا نام لکھتی رہی
جیسے لکھ کر
کبھی مٹاتی رہی
تصور میں ہر پل
تجھے دیکھتی رہی
دیکھ کر حال دل سناتی رہی
اور کبھی
سنا کرشرماتی رہی
تو روٹھتا رہا
میں تجھے مناتی رہی
ہاں!وہ میں ہی تھی
جو اس دنیا سے
تجھے چھپاتی رہی
تیری ہر بات کو مان کر
تجھے اپنا بناتی رہی
تیری ہر خطا کو بھی
اپنی خطا بتاتی رہی
ہاں!وہ میں ہی تھی
جو ہر پل تیری
خوشی چاہتی رہی
تیرے اٹھنے سے بھی پہلے
تیرے لیے
دعاؤں کا گلدستا سجاتی رہی
ہر روز نئے نئے انداز سے
تجھ پے پیار جتاتی رہی
ہاں!وہ میں ہی تھی
جو تجھے سمجھاتی رہی
تجھے غلط سہی بتاتی رہی
تجھے تیرے اپنوں کی
پہچان کراتی رہی
ہاں!وہ میں ہی تھی
جیسے تو نے سمجھا نہیں
جیسے تو نے چاہا نہیں
جیسے تو نے کبھی اپنا کہا نہیں
ہاں!وہ میں ہی تھی
ہاں!وہ میں ہی تھی ۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






