ہر سمت ہتھیلی پہ ضیا پھوٹ رہی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہر سمت ہتھیلی پہ ضیا پھوٹ رہی ہے
حرفوں میں مرے شاخِ دعا پھوٹ رہی ہے
اترے ہیں مرے بام پہ رحمت کے فرشتے
ہے وقتِ سحر ،یادِ خدا پھوٹ رہی ہے
گاتے ہیں سبھی تیری حضوری کے ترانے
گھر گھر سے محبت کی ضیا پھوٹ رہی ہے
دریا میں ہیں کس باد مخالف کے تھپیڑے
ہر سمت سے نفرت کی ہوا پھوٹ رہی ہے
کب سے ہوں میں اس شہر فسوں کار میں حیراں
ہر سو جو رقابت کی وبا پھوٹ رہی ہے
ہے دھوپ کی شدت کا بھی احساس اگرچہ
چڑیوں کے چہکنے کی صدا پھوٹ رہی ہے
وشمہ بھی ہے صحرائے مسافت میں اکیلی
اور راہ میں کالی سی گھٹا پھوٹ رہی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






