ہم نے سو فکر دل و جاں کو لگا رکھے ہیں
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiہم نے سو فکر دل و جاں کو لگا رکھے ہیں
اس پہ کچھ راز تمہارے بھی چھپا رکھے ہیں
جس کی راہوں میں کبھی ہم نے بچھائیں پلکیں
اس نے اس راہ میں اب خار بچھا رکھے ہیں
جو بھی دشمن تھے مرے لوگ زمانے بھر میں
اس نے ہمدرد وہی اپنے بنا رکھے ہیں
ہائے اک بار بھی آنکھیں نہ ہوئیں نم ان کی
ہم نے دکھڑے تو بہت ان کو سنا رکھے ہیں
اس کے سینے میں جو پوشیدہ رہے تھے اب تک
اس نے وہ راز بھی ہم کو ہی بتا رکھے ہیں
وہ جو تحفے میں ملے تھے کبھی ان سے ہم کو
ہم نے وہ پھول کتابوں میں سُکھا رکھے ہیں
جن کو بہنا تھا جدائی پہ کسی کی ارشیؔ
ہم نے وہ اشک بھی آنکھوں میں سجا رکھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






