یوں تو وہ دل کی بستی بچانے میں رہ گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, Kuala Lampurیوں تو وہ دل کی بستی بچانے میں رہ گئے
لیکن کسی کے خواب سہانے میں رہ گئے
ہم اپنے ہی خیال کےمنظر میں قید تھے
ہم اپنے دل کا پنچھی اڑانے میں رہ گئے
ہم پوجتے تھے جس کو وہ بت ٹوٹ بھی چکا
پھر بھی اسی کے دیکھو زمانے میں رہ گئے
رکھے ہوئے ہیں گھر میں اداسی کے کچھ چراغ
جن کو ہوا کے ہاتھ بجھانے میں رہ گئے
کچھ تو ہوا کے دوش پہ محوِ سفر رہے
کچھ پنچھی میرے پیار کے دانے پہ رہ گئے
خونِ جگر میں ہاتھ تھے اپنے اسی لئے
شعر و غزل ہی ہم تو بنانے میں رہ گئے
جس زندگی کی بھیڑ میں وشمہ جی گم تھے ہم
اس زندگی کی راہ بنانے میں رہ گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






