یہ نازو ادائیں
Poet: محمد سلیم صیاد By: محمد سلیم صیاد, Houstonیہ عِشوہ طرازی یہ نازو ادائیں
سمندر سے گہری غزالی نگاہیں
یہ بادِ بہاراں یہ رنگیں فضائیں
صنم لے رہی ہیں تمھاری بلائیں
کنول کے سی نازک جوانی تمھاری
شرارت بھری ہیں یہ چنچل ادائیں
یہ خوشبو تمھارے بدن کی ہے شاید
مہکنے لگی ہیں ہیں جو سُندر فضائیں
جلادیں دلوں کو شعاوں سے پل میں
اگر سر جھکا کر وہ نظریں اُٹھائیں
حسیں اتنا ربّ نے بنایا جو تم کو
حسینو! لگی ہیں ہمھاری دعائیں
تکبر نہ کرنا قسم سے وگرنہ
لگیں گی تمہیں ہم فقیروں کی آہیںیہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






