میلی چنریا
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Houston
ہوی میلی چنریا اوڑھی جو تیرے نام کی کبھی
ہوی چھیدوں چھید چنریا لگےجو داغ مٹے نہ کبھی
بھرے نہ زخم دل پے لگے کھای چوٹ نہ سنبھلے کبھی
رستہ ملا نہ انکو گھر کا بگڑے سیاں نہ سدھرے کبھی
رسوای بڑی اس کھیل میں گر یوں بھید جو کھلے کبھی
کھیلیں من چلے یہ کھیل بڑا پر بازی الٹتے دیر نہ لگے کبھی
گر بھاے من کو جو بھٹیارن کرے دل پہ راج بن کےرانی کبھی
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بنے محل بھٹیارن کےلیۓ بھی کبھی
کہیں راجہ بھوج کہیں گنگو تیلی دل ربا پر ہو جایئں گر واری کبھی
گر نہا کے گنگا پاپ دھل جایئں
تو کاہے پوجا پاٹ کرے پاپی کبھی
(درخشندے)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






