تاروں کے مسافر سنُ ، کچھ زیب نہیں دیتا

Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canada

بھوُ لی ہوئی ا ک صو رت جب یا د کبھی آ ئی
سینے سے لگی شب بھر روتی رہی تنہائی

جلتے رہے ہونٹوں پہ سوُ کھے ہوئے افسانے
کھلتے رہے آ نکھوں میں اسرارِ شکیبائی

تاروں کے مسافر سنُ ، کچھ ز یب نہیں د یتا
ہر گام پہ کر تا ہے تو را ستہ پیما ئی

کمروں میں ا ندھیرا ہے ، سناٹا ہے آ نگن میں
آ ر ا م سے بیٹھی ہے د یو ا ر پہ تنہائی

د نیا سے نرا لی ہے قسمت کی لکیر ا پنی
ہر ہار پہ روتی ہے ، ہر جیت پہ شر ما ئی

رقصاں ہیں خیالوں میں پھولوں سے سجی غزلیں
با رات ہے خوشبو کی ، یا یاد تر ی آ ئی

آ دابِ محبت تو پیارے بڑے سادے تھے
لے ڈو بی ہے حضرت کو اَ فکا ر کی گہر ائی
ق
اس عالمی منڈی میں کاندھوں پہ لیئے پھریے
ا فلاس کی چا د ر میں لپٹی ہو ئی رُسو ا ئی

جس قو م کی قسمت میں بیما ر اُجالے ہیں
و ہ مانگتی پھر تی ہے ظلمت سے مسیحا ئی
 

Rate it:
Views: 570
06 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL