آنکھوں کو سمجھاؤں گا کہ تمہیں نہ دیکھیں
Poet: Muhammad Idrees Primi By: Abdul Qadir, Lahore آنکھوں کو سمجھاؤں گا کہ تمہیں نہ دیکھیں
معاف کرنا اگر مل جائے نظر سے نظر
-------------------------------------------------
گر کوئی جینے نہ دے شرافت سے
پھر مسلمانوں تم جینا سیکھو طاقت سے
--------------------------------------------------
تم اپنے گھر آباد رہو ہم ویراں اپنے ویرانے میں
کوئی کسی کی سنتا نہیں نفسا نفسی کے زمانے میں
---------------------------------------------------------
میں نے کچھ مانگا نہیں اس نے کچھ دیا نہیں
یہ ہماری فطرت مانگ کر کچھ لیا نہیں
---------------------------------------------------------
تیرے سپنے پورے ہوئے لیکن مجھے تعبیر نہ ملی
ہر کوئی لگا ہے اپنا اپنا گھر بسانے میں
-----------------------------------------------------
جسے یار سمجھتا رہا پتا چلا کہ وہ سب کا یار ہے
ہر کسی سے وفا کرتا ہے وہ بہت وفادار ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






