“اب آئے موت ہی ، آنا نہیں جو اُس نے ریاض ۔۔۔“

Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.

شمع کے بہنے پہ، اشکوں کا گماں ہوتا ہے
مجھے اشکوں پہ موتیوں کا گماں ہوتا ہے

کوئی کہتا ہے کہ برسات کی وجہ ہے گھٹا
مجھے محبوب کی زلفوں کا گماں ہوتا ہے

گھنی گھٹا ، چلی ہوا ، زمین کی خوشبو
مجھے حالات پہ، سپنوں کا گماں ہوتا ہے

سریلے جھرنوں کی پہاڑوں پہ، مدھر آواز
اُس کے ، میرے لئے، گیتوں کا گماں ہوتا ہے

کہیں مستی میں، کوئی مور جو پھیلا لے پنکھ
اُن پہ محبوب کی پلکوں کا گماں ہوتا ہے

بدل گیا ہے کیوں طوفان میں ، بھیگا موسم
کوئی شرارت ہے، اپنوں کا گماں ہوتا ہے

اُس سے جدا ہوئے چند لمحے ہی گزرے ہوں گے
بچھڑے لمحوں پہ کیوں ، صدیوں کا گماں ہوتا ہے

شبِ تنہائی ، انتظار اور پتوں پہ ہوا
مجھے کیوں، اُس کے ہی قدموں کا گماں ہوتا ہے

اُس کی آنکھوں سے چھلکتے ہوئے اشکوں پہ مجھے
کبھی رِم جھِم ، کبھی ندیوں کا گماں ہوتا ہے

کوئی خوشی نہیں ہے زندگی میں ، خدشوں سے
ابھی آنے ہیں جو ، لمحوں کا گماں ہوتا ہے

اب آئے موت ہی ، آنا نہیں جو اُس نے ریاض
ہر اِک آہٹ پہ ، فرشتوں کا گماں ہوتا ہے

Rate it:
Views: 528
29 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL