اب تم مجھ پر کوئی عنایت نہ کرنا
Poet: Mubeen Nisar By: Mubeen Nisar, Islamabadاب تم مجھ پر کوئی عنایت نہ کرنا
دل کو سمجھا لیا ہے شکایت نہ کرنا
یہ گناە انجانے میں ہی ہو گیا شاید
پھر سے ملا جنم تو محبت نہ کرنا
چمکتے ستاروں کو دیکھ کر آسماں پر
منصوب کسی سے قسمت نہ کرنا
انتظار کرنا اسکی راہگزر میں
مگرآنکھ اٹھانے کی جراٴت نہ کرنا
زباں بندی بہت لازم ہے عشق میں
بیاں کسی سے یہ حکایت نہ کرنا
یہ وصل ہی تو ہے کچھ اور نہیں
تیری یاد سے کبھی فرصت نہ کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






