!!اب درد یه اور اٹھایا نهیں جاتا

Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

اب درد یہ اور اٹھایا نہیں جاتا
بھول کے بھی تجھے بھولایا نہیں جاتا

تم کیا سخی ہو، کیا ناصح ہو تم
تم سے تو کوئی روٹھا منایا نہیں جاتا

ہو جاتی اس وقت محبت مفلس
پیماں جب کوئی نبھایا نہیں جاتا

آنکھوں سے جان لیتے ہیں لوگ حقیقت
قصہ تو ہر ایک کو سنایا نہیں جاتا

اتار پھینکیں گے کسی روز لبادہ تیرا
زندگی بوجھ تیرا اور اٹھایا نہیں جاتا

کب تلک میں خوش فہمی میں رہوں
خود کو اب اور بنایا نہیں جاتا

جذبات کو پڑھ لیتے ہیں احساس اکثر
جذبہ ہر ایک بتایا نہیں جاتا

خدا پرست، اہل ء ظرف سے سنو
دل کبھی کوئی رولایا نہیں جاتا

نجانے صبر ہے میرا یا بے ضبط عنبر
اب تو آنسو بھی کوئی بهایا نہیں جاتا

Rate it:
Views: 506
14 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL