اب ڈھلک جائے نہ آنکھوں سے آؤ تو سہی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشام اتری تو کئی زخم یہ دکھاؤ تو سہی
- تیری تصویر کا ہاتھوں سے بناؤ تو سہی
موسمِ گل پہ بھی کیوں آج خزاں ہے بھاری
جانے کس سمت سے یہ درد بھی جاؤ تو سہی
لوگ کرتے ہیں زمانے میں وفا کی باتیں
اب ڈھلک جائے نہ آنکھوں سے آؤ تو سہی
چاند کاٹے گا کہاں رات سہانی اپنی
چاند چہرے پہ اگر اس کو سجا ؤ تو سہی
موسمِ گل پہ بھی کیوں آج خزاں ہے بھاری
جانے کس سمت سے یہ درد لگاؤ تو سہی
میں بھی رکھ دوں گی یہاں پھوڑ کے آنکھیں اپنی
مری آنکھوں میں تو سب رنگ ملاؤ تو سہی
کون پڑھتا ہے یہاں درد کہانی وشمہ
مرے اس نام کو بھی گھاؤ لگاؤ تو سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






