اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKI

ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

جب بھی ملتا ہے کوءی شخص بہاروں جیسا
مجھ کو تم کیسے بھلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

یاد آتی ہیں اکیلے میں تمھاری نیندیں
کس طرح خود کو سلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے ؟
آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے
اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

موسمِ گل میں نشہء ہجر بڑھ جاتا ہے
میرے سب ہوش اڑاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے
اب اگر اشک بہاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

شہر کے لوگ بھی واثق یہی کرتے ہیں سوال
اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

Rate it:
Views: 2566
13 Aug, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL