اسی در کی تو برسوں سے ہمیں تلاش تھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکچھ بننے کی چاہ تھی
کچھ کرنے کی چاہ تھی
پھولوں کو لبوں پے سجا لیتے تھے
کبھی ہم میں بھی ایسی ادا تھی
محفلوں نے منہ موڑا تو
تنہایوں کے سفر پے
چل پڑے گیے تنہا کہا خبر تھی
کہ ہم بھی اتنی اناء تھی
جس کے در سے نکلے تھے
کبھی نہ لوٹنے کا وعدہ کر کے
مگر افسوس اسی در کی تو
برسوں سے ہمیں تلاش تھی
میں ظالم تو نہیں ، پھر
کیوں کہہ دیا ُاس نے ظالم
وہ کہتی تھی ُانہیں غزلیں جن میں
چھپی حرف بے حرف میری ہی داستان تھی
کس کس طرح کے الزام دیے تھے
اس دنیا نے ُاس نادان کی نیت پے
پر باخدا گوا ہیں کہ ُاس
شخص کی نیت کس قدر صاف تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






